اڈپی 17؍ستمبر (ایس او نیوز) گنگولی کے بندر پر ماہی گیر کشتیوں کو کنارے لگانے اور ان میں سے مچھلیاں اتارنے کے لئے جو گودی (جیٹی) بنی ہوئی تھی اس کا ایک سلیب کمزور ہوکر گرگیا ہے اور بقیہ سلیب بھی گرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں جس کی وجہ سے ماہی گیر پریشان ہوگئے ہیں۔
حالانکہ ماہی گیروں کی طرف سے شکایت موصول ہونے کے بعد متعلقہ افسران نے موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا ہے ، مگر ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس معاملے میں کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اس لئے وہ احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
تعلقہ پنچایت رکن اور ماہی گیر سریندر ا کھاروی نے بتایا کہ یہ جیٹی تقریباً دس سال قبل تعمیر کی گئی تھی، مگر اس وقت تعمیری کام میں کوتاہی کی گئی تھی اور بڑے غیر معیاری انداز میں یہ کام پورا کیا گیا تھا۔ اسی وقت ماہی گیروں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی، لیکن افسران نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ جیٹی کے لئے سمندر میں جو دیوار تعمیر کی گئی ہے اس کے اندر ایک سوراخ ہے جس کی وجہ سے کھارا پانی جیٹی کے اندر گھس آتا ہے اور اس سے سلیب کمزور ہوگئے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے غوطہ خوروں کی مدد سے اس سوراخ کو بندکروانے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس سے متوقع فائدہ نہیں پہنچا۔ اب حالت یہ ہے کہ کسی بھی وقت بقیہ سلیب بھی گر سکتے ہیں۔
جوائنٹ ڈائریکٹرس آف فشریزملپے مسٹر ایم ایل ڈوڈمنی نے بتایا کہ گنگولی میں ماہی گیروں کے ساتھ انہوں نے میٹنگ منعقد کی ہے اور انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے 70اسکوائر میٹر کی ایک عارضی دیوارجیٹی کے پاس تعمیر کر دی گئی ہے۔ہمیں پتہ ہے کہ جیٹی کا یہ حصہ بہت ہی زیادہ کمزور ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ ہفتے پہلے بنگلورو سے افسران نے یہاں پہنچ کر معائنہ کیا ہے اور اس منصوبے کا تخمینہ تیا رکیا ہے۔ پورٹ اینڈ فشریز ڈپارٹمنٹ کے انجینئرس اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔لیکن اس کے لئے تکنیکی رہنمائی سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کوسٹل انجینئرنگ فار فشریز(CICEF)کی جانب سے موصول ہونی ہے اورہم اسی کا انتظار کررہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ چارپانچ دنوں کے اندر یہ رہنمائی موصول ہوجائے گی، اور اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کردیا جائے گا۔